سدھیر احمد آفریدی قبائلی امور و مسائل پر لکھنے والے معروف اور سینئر تجزیاتی کالم نگار اور صحافی ہیں جو گزشتہ 25 سالوں سے اپنے قلم کے ذریعے قبائلی عوام کے مسائل، انسانی اور بنیادی حقوق پر لکھ رہے ہیں۔

عالمی سطح پر ماحولیاتی آلودگی کا دن منانا اچھی بات ہے اس سے لوگوں میں شعور بڑھے گا تاہم عالمی اور ملکی سطح پر محض آگاہی کی غرض سے اشتہارات شائع کرنا، ایک دو جگہوں پر سیمینار اور واک کا اہتمام کرنا کافی نہیں واقعی ماحولیاتی آلودگی دہشتگردی سے بڑا اور سنگین تر مسئلہ ہے لیکن بدقسمتی سے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لئے پاکستان میں کوئی ٹھوس اور قابل زکر اقدامات دکھائی نہیں دیتے جس کے نتیجے میں آلودگی کم ہو سکے حال یہ ہے کہ پاکستان کے بڑے بڑے شہر ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتے ہیں جس سے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے اور اس کے نہایت منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن بڑے بڑے علاقے بنجر اور خشک پڑے ہیں اگر کسانوں کو یہ زمینیں آباد کرنے کا ٹاسک شراکت داری کی بنیاد پر دیا جائے،ان کو فصلیں اور درخت کاشت کرنے کے لئے بیج اور نرسریاں فراہم کی جائیں، ان کو ٹریکٹرز، دیگر جدید مشینیں،بجلی،مصنوعی نہریں یا ٹیوب ویل لگا کر فراہم کی جائیں تو ثابت کیا جا سکتا ہے کہ واقعی پاکستان ایک زرعی ملک ہے پھر پاکستان مختلف فصلوں میں خودکفیل ہوگا، گندم وغیرہ درآمد کرکے کرپشن کا موقع کسی کو نہیں ملیگا بلکہ پاکستان اکسپورٹ کرنے کی پوزیشن میں ہوگا جس سے کافی زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے لیکن کس کے سامنے یہ تجاویز رکھ رہے ہیں یہ بنیادی سوال ہے بدقسمتی سے پاکستانی حکمرانوں اوردیگر آفسر شاہی کو کرپشن سے فرصت نہیں ملتی افغانستان جیسے جنگ زدہ اور تباہ حال ملک کی کمزور ترین اور ناتجربہ کار ملک کی حکومت نے بھی اپنے اجناس اور خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے اور زرمبادلہ کمانے کے لئے ایک لمبی نہر بنا کر اس میں پانی چھوڑ دیا اور اس طویل نہر کے اوپر سولر سسٹم نصب کرکے جگہ بھی بچائی اور توانائی کا سستا ذریعہ لگا کر لوگوں اور کسانوں کو بجلی سے مستفید ہونے کا کامیاب انتظام کر لیا کم از کم افغانستان کو سامنے رکھ کر کچھ سبق حاصل کریں ساری دنیا کے اتحاد سے لڑ کر آزادی حاصل کی اور آج افغانستان میں مکمل امن ہے ،لوگ مطمئن ہیں وہاں کرپشن کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا حالانکہ ان کے پاس نہ کوئی تربیت یافتہ فوج ہے اور نہ ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ بیوروکریسی ہے مگر پھر بھی افغان کرنسی مستحکم اور پاکستانی روپے سے بہتر ہے جنگ زدہ افغانستان کسی سے قرضہ بھی نہیں لیتا اور نہ ہی مقروض ہے اور نظام معیشت بغیر سود کے چلا رہے ہیں وہاں ماحولیاتی آلودگی بھی نہیں حالانکہ 40 سال سے وہاں بارود پھٹ رہے ہیں بہت افسوس ہوتا ہے جب یہاں پاکستان میں لوگ پودے اور درخت کاشت ہی نہیں کرتے بلکہ الٹا مبینہ طور پر جنگلات کو آگ لگائی جاتی ہے جس سے ایک طرف آلودگی بڑھ جاتی ہے اور دوسری طرف قیمتی جنگلات میں قیمتی درخت جل جاتے ہیں اور پھر خشک اور گیرے ہوئے درخت کے بہانے مافیا سے وابستہ لوگ سرسبز و شاداب اور بڑے بڑے درختوں کو الیکٹریکل آریوں کے ذریعے کاٹ کر سمگل کرتے ہیں رہی سہی کسر مقامی لوگ توانائی اور عمارات کی تعمیر کی غرض سے پورا کردیتے ہیں یہ سب جہالت اور ہماری اجتماعی بدقسمتی ہے اگر حکومت تیراہ وادی جیسے علاقوں تک بجلی اور گیس کی سہولیات پہنچا دیں تو لوگ درخت کاٹنے سے گریز کریں گے حکومت اور متعلقہ محکموں کے افسران اگر کرپشن چھوڑیں اور دیانت داری کو اوڑھنا بچھونا اور کلچر بنائیں تو پاکستان کو صاف ستھرا، آلودگی سے پاک زرعی خود کفیل ملک بنایا جا سکتا ہے لیکن یہاں ذمہ داروں کی وجہ سے ہی حالات ہو رہے ہیں صرف وادی تیراہ اور دیگر قبائلی علاقوں سے بہنے والا پانی اگر جھیلوں اور بارانی ڈیموں کی صورت میں محفوظ کر لیا جائے تو پانی کی قلت ختم ہو سکتی ہے ،ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکتا ہے اور اس سے سیاحت کے شعبے کو بھی ترقی دی جا سکتی ہے سے سے لوگوں کو روزگار بھی ملیگا میں اگر صرف قبائلی علاقوں باالخصوص جمرود،باڑہ اور لنڈیکوتل میں کرش مشینوں پر بات کروں تو کافی ہے کیونکہ یہاں پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرکے ان کی بجری بنانے سے قدرتی پہاڑوں کی خوبصورتی ختم ہو کر رہ گئی لازمی بات ہے ان منفی اقدامات کی نتیجے میں درجہ حرارت بڑھے گا اور گرمی کی شدت میں ہر سال اضافہ ہوگا کرش پلانٹس سے محدود لوگوں کو مافیا کے تحت کچھ منافع تو ملتا ہے لیکن ان کرش پلانٹس اور کارخانوں نے جس بڑے پیمانے پر ماحولیاتی آلودگی پیدا کر رکھی ہے اس سے قریب رہنے والے علاقوں کے لوگوں میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے کارخانوں میں قائم انڈسٹریز سے جس بڑے پیمانے پر دھواں نکلتا ہے اس کو دیکھ کر انسان کے ذہن پر خراب اثرات مرتب ہوتے ہیں کدھر ہیں ماحولیاتی آلودگی اور انڈسٹریز اینڈ کنزیومرز کے محکمے جو یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں آبادی بیشک تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اپنا گھر ہر کسی کی خواہش اور ضرورت ہے رہائشی منصوبوں کی مخالفت نہیں کرتا اور ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کو ضروری سمجھتا ہوں تاہم ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر اور اس سے جڑے ہوئے ضروری لوازمات اور معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور باقاعدگی سے ان ہائی رائزنگ عمارتوں کی تعمیر کے وقت نگرانی کی جانی چاہئے تاکہ قدرتی آفات جیسے زلزلوں یا دھماکوں کے نتیجے میں ان عمارتوں کو حتیٰ الوسع محفوظ بنانے کو یقینی بنایا جا سکے کیونکہ ان کے اندر محدود رقبے میں سینکڑوں گھرانے رہائش پذیر ہوتے ہیں اسی طرح ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ زرعی زمینوں پر سوساٸٹیاں تعمیر کروانے کی اجازت کسی کو نہ ملے اس سے زراعت کو نقصان ہوتا ہے ،زرعی زمین ختم ہو کر رہ جاتی ہے اور اس سے آلودگی بھی بڑھتی ہے اگر دیکھا جائے تو مسلسل یہ خبریں مل رہی ہیں کہ پاکستان کے گلیشئیرز گرمی کی شدت کی وجہ سے تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے گرمی اور بڑھے گی اور دیگر نقصانات بھی متوقع ہیں یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہم بحیثیت قوم ماحول بچانے کی فکر ہی نہیں کرتے اور بکل غافل ہیں تباہ کن بارشیں بھی موسمیاتی تبدیلی کے برے نتائج ہیں یہ سب کچھ محض مفید اور مفت مشورے ہیں کارکردگی دکھانے والے محکمے اور آفسران اگر پرعزم ہوں، دیانت دار اور اس ملک کے ساتھ وفادار ہوں تو یہ سارے کام مشکل نہیں بلکہ بہت آسان ہیں بہرحال پورے ملک اور ہر علاقے کو ماحولیاتی آلودگی کے برے اور منفی اثرات سے بچانا ہے۔ آئیے عزم کریں کہ ہر بشر دس شجر کے سلوگن کو پروان چڑھائیگا اور اپنے ماحول کو ہر قسم کی گندگی سے صاف رکھتے ہوئے صفائی کو اپنے کلچر کا لازمی حصہ بنائیں۔۔۔۔۔۔۔۔

By pkadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *