شمس مومند

 

پاکستان اس وقت دنیا میں آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہے۔ انڈیا، چین،  امریکہ اور انڈونیشیا کی آبادی  ہم سے زیادہ ہے مگران تمام ممالک نے اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کی رفتار کو بریک لگا لی  ہے ۔اس وقت انڈیا میں آبادی بڑھنے کی شرح 0.7 فیصد،  امریکہ میں 0.4 فیصد، چائنا میں -0.0 فیصد جبکہ پاکستان میں یہ شرح 1.86 فیصد ہے۔ آبادی بڑھنے کا ہمارا سابقہ ریکارڈ بھی نہ صرف قابل تشویش بلکہ تباہ کن ہے۔

1972 میں ہماری آبادی 6 کروڑ 53 لاکھ نفوس پر مشتمل تھی جو 2024 یعنی 52 سال میں چارگنا بڑھکر 24 کروڑ 15 لاکھ ہوگئی۔ اگر اس رفتار سے آبادی بڑھنے کا سلسلہ جاری رہا تو 2050 یعنی چھبیس سال بعد پاکستان کی آبادی تقریبا 37 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں زیادہ آبادی کوئی معیوب بات نہیں لیکن شرط یہ ہے کہ بڑھتی آبادی کیساتھ درکار لوازمات بھی بڑھتے رہیں ۔ یعنی سکول، کالجز، مکانات، ہسپتال، روڈز،فوڈز، انڈسٹری اور روزگار کے مواقع دستیاب ہوں  تو دنیا میں ہیومن ریسورس سے قیمتی کوئی شے نہیں۔ اور نوجوانوں کے لحاظ سے تو پاکستان دنیا بھر میں سر فہرست ہے۔ پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم افراد پر مشتمل ہے ، ان میں بھی 29 فیصد افراد بالکل نوجوان یعنی 15 سے 29 سال کے درمیانی عمر کے ہیں۔ یہی وہ دور ہوتا ہے جس میں بندے میں توانائی اور طاقت ہوتی ہے اس میں سیکھنے اور کام کرنے کی صلاحیت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اس دور میں نوجوانوں کی مناسب تعلیم وتربیت اور رہنمائی پورے ملک کی کایا پلٹ سکتی ہے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں کیا جارہا جس سے یہ اثاثہ اصل میں بھی اثاثہ ہی ثابت ہو بلکہ ہمارے ہاں تو الٹ چل رہاہے  ایک طرف ہم سے آبادی کنٹرول نہیں ہورہی ہے تو دوسری طرف درکار انفرا سٹرکچر اور آبادی کی بڑھتی شرح میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ یعنی ترقیاتی کام اگر 5 + 5 دس کے حساب سے ہورہے ہیں  تو اس کے مقابلے میں آبادی پانچ ضرب پانچ یعنی  پچیس کے حساب سے چھلانگیں مار رہی ہے۔
تیسری جانب 30 فیصد نوجوانوں کی تعلیم وتربیت اور روزگار فراہم کرنے میں ریاستی سرپرستی اور سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے ۔ قوم کے اس مستقبل کو پرائیوٹ سیکٹر کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ جو نوجوانوں کو ہنر سکھانے ان کی تربیت اور رہنمائی کی بجائے ان میں کاغذی ڈگریاں تقسیم کر رہی ہے۔ نتیجتا ہر سال لاکھوں قیمتی ذہن ملک سے فرار ہورہے ہیں جبکہ لاکھوں کی تعداد میں بے روزگاروں کا اضافہ “خود کش بمباروں” کی مانند شتر بے مہار بن رہے ہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ ہم یورپ و امریکہ تو درکنار اپنے پڑوسی ممالک کے تجربات سے بھی استفادہ نہیں کر سکے۔ ان کے نقش قدم پر چلنا بھی ہم ممکن نہ بنا سکے۔ اس حوالے سے چائنا اور بنگلہ دیش کی کامیاب مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
مختصر یہ کہ ہمارے پالیسی سازوں کو سب سے پہلے آبادی کی شرح کو 2030 تک ایک فیصد تک لانے کی بھرپور سعی کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے شعور و آگہی اور طبی اقدامات سمیت خواتین کی تعلیم اور روزگار بڑھانے سے بھی اس میں مدد مل سکتی ہے۔
دوم یہ کہ اعلی تعلیمی اداروں کو کاغذی ڈگری دینے سے پہلے اس بات کا پابند بنایا جائے کہ ہر پاس آوٹ ہونے والا مرد یا خاتون کسی ایک ہنر سے بھی آراستہ ہو۔ اور وہ وائٹ کالر جاب کی بجائے اپنے ہاتھ سے کام یا اپنے روزگار کو عیب نہ سمجھے بلکہ اسکو فخریہ اپنائے۔
اور سوم یہ کہ صوبے ترقیاتی کاموں میں وزرا اور وزیر اعلی کے صوابدیدی اختیارات اور جگہوں اور پراجیکٹ کی نشاندہی کی بجائے محکموں کی ضرورت اور اختیار کو فوقیت دے۔ شہروں کیساتھ ساتھ دیہاتوں میں سڑکوں کی تعمیر اور امن وامان کو یقینی بنایاجائے  تاکہ عوام اور پرائیویٹ سیکٹر اپنی مدد آپ کے تحت تعلیم وصحت کی سہولیات فراہم کرے۔ اگر ان تجاویز پر عملدرآمد نہ ہوا تو خدانخواستہ ہمارےڈگری ہولڈر بے روزگار اور بے تحاشا آبادی ہمارے لئے آبادی بم ثابت ہوگی۔ جس کا کوئی علاج ممکن نہیں ہوگا۔

 

شمس مومند   گزشتہ ستائیس سال سے قبائلی امور اور خیبر پختونخوا کی دہشت گردی، ثقافت اور سیاست پر گہری نظر  رکھے ہوئے ہیں۔ تاریخ تحقیق اور شعر وادب میں چھ کتابوں کے مصنف ہیں۔ کئی ایک قومی اور بین الاقوامی صحافتی اداروں سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کا شمار خیبر پختونخوا کے ٹی وی اور ریڈیو کے مایہ ناز براڈ کاسٹرز میں ہوتا ہے

 

By pkadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *