شمس مومند

اس وقت پاکستانی معاشرہ بری طرح تقسیم اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ ہر بندہ اپنے آپکو سمجھدار اور راہ راست پر اور باقی سب کو کم عقل اور گمراہ سمجھتا ہے۔ یہ تقسیم صرف سیاست تک محدود نہیں، مذہبی طبقہ ہو، سرکاری محکمے اور ادارے ہوں، غیر سرکاری تنظیمیں ہوں یا پھر صحافتی اور بار ایسوسی ا یشنز ہر جگہ یکساں تباہی پھیلی ہوئی ہے۔ اسکی وجوہات پر بات کرنے اور نفرتیں بڑھانے کی بجائے کیوں نہ موجودہ ملکی اور سیاسی صورتحال کا مختصر جائزہ لیکر آگے بڑھنے کی بات کی جائے۔

موجودہ صورتحال یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں اور افراد تو درکنار تمام بڑے ریاستی اداروں میں بھی آئین وقانون کی پیروی کی بجائے پسند و ناپسندکی بنیاد پر گروپ بندی، سازشوں، اناوں اور اختیارات کی جنگ جاری ہے۔ سیاست کا کھیل ان افراد اور اداروں کے دماغ میں بھی گھس کر قبضہ جما چکا ہے جن کے لئے سیاست سے دوری اور غیر جانبداری منصب کا تقاضا اور شرط اولین ہے۔ ہر بندہ حب الوطنی اور ملکی مفادات کے نام پر اپنے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتا نظر آتا ہے۔ فوج اور سیاستدانوں کے درمیان تناو اور لڑائی جو کسی زمانے میں چھپ چھپ کے ہوا کرتی تھی اب ببانگ دہل ہوتی ہے اور اس کے قصے زبان زدعام ہیں۔ سیاست اور عدالت میں 70 سال سے جاری نادیدہ قوتوں کی مداخلت کی باقاعدہ مزاحمت شروع ہوئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ آئینی اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کی نہیں بلکہ اپنی اپنی بقاٗ کی جنگ جاری ہے۔ برائے نام تو سب آئینی ادارے ہیں مگر آپس میں دست وگریباں ہیں تو کوئی بھی اپنے آئینی حدود پر رکنے اور سر تسلیم خم کرنے کو تیار نہیں۔ لگتا ہے افراد کے مفادات اور اشخاص کی انائیں ریاست اور آئین سے بڑی ہوگئی  ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی درمیانی رستہ تلاش کیا جائے۔ اور درمیانہ رستے کی نشاندہی اور فریقین کو اس رستے پر چلنے کے لئے آمادہ کرنا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔
میرے خیال میں اس وقت چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی وہ واحد شخصیت ہے کہ اگر وہ چاہے تو تین بڑوں کو ساتھ بٹھا کر اس دلدل سے نکلنے اور آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔ انھوں نے عمران خان کے دور میں اپنے خلاف کیس کو جس صبر اور استقامت کیساتھ لڑا اور جیتا وہ  ثبوت کے طورپر کافی ہے کہ ان میں حوصلہ، استقامت، سمجھ بوجھ اور دانش پائی جاتی ہےاور  اگر وہ پہل کرےصدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف کو چار نکاتی ایجنڈے پرساتھ بٹھاکر عظیم تر ملکی مفاد میں اس پر غور کریں کہ کیسے

 تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، سیاسی مقدمات کا خاتمہ ، غیر جانبدار الیکشن کمیشن اور بلا تفریق احتساب کو ممکن بنایا جاسکتا ہے؟اور اگر ضروری ہو تو اس عمل میں اپوزیشن لیڈر کو بھی شامل کیا جائے۔
 تمام اداروں بشمول فوج، عدلیہ، انتظامیہ کے ماضی کو بھلاکرانکو اپنے اپنے آئینی حدود تک کس طرح محدود کیا جائے۔ اور مستقبل کیلئے کوئی ایسا مضبوط میکنزم ہو کہ آئین کی خلاف ورزی  ناممکن بن کر رہ جائے۔
 قرض نہیں سرمایہ کاری کو قومی معاشی پالیسی بنائی جائے۔ اور معاشی پالیسی کا تسلسل برقرار رکھنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیکر قانون سازی کی جائے۔
بحیثیت انسان ہم سب کی بنیادی ضروریات یکساں ہوتی ہیں اسلئے چاروں بڑے اس بات پر بھی غور کریں کہ تمام سرکاری وغیر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں زمین وآسمان کے فرق کو کم سے کم کرکے دس گنا تک محدود کیا جائے۔ یعنی اگر کم سے کم تنخواہ 30 ہزار ہے تو زیادہ سے زیادہ 3 لاکھ ہونی چاہیے۔ اس سے زیادہ تنخواہ اور مراعات طبقاتی نظام کی حوصلہ افزائی اور کرپشن کا باعث بن رہی ہیں۔
میرے بعض دوست اعتراض کر سکتے ہیں کہ آئین چیف جسٹس کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے اور باقی سب کے حدود بھی متعین ہیں لہذا جیسا چل رہا ہے ویسا ہی ٹھیک ہے تو ان دوستوں کے لئے میرا سادہ سا جواب ہے کہ کیا اس وقت ملک میں آئین پر عملدرآمد ہورہا ہے؟اور اگر نہیں تو ذاتی مفادات کی بجائے ایک مرتبہ قومی مفادات کے لئے آئین سے ماوریٰ مسئلے کا حل ڈھونڈا جائے۔ کوئی قیامت نہیں آئے گی ورنہ  اس وقت معاشرتی تقسیم ، نفرت اور آئین سے کھلواڑ کا جو بازار گرم ہےیہ خدانخواستہ خانہ جنگی، تباہی اور پر تشدد انقلاب پر منتج ہوگا۔ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔

 

شمس مومند   گزشتہ ستائیس سال سے قبائلی امور اور خیبر پختونخوا کی دہشت گردی، ثقافت اور سیاست پر گہری نظر  رکھے ہوئے ہیں۔ تاریخ تحقیق اور شعر وادب میں چھ کتابوں کے مصنف ہیں۔ کئی ایک قومی اور بین الاقوامی صحافتی اداروں سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کا شمار خیبر پختونخوا کے ٹی وی اور ریڈیو کے مایہ ناز براڈ کاسٹرز میں ہوتا ہے

By pkadmin

One thought on “درمیانہ راستہ تلاش کیجئے ورنہ ۔۔۔۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *