شمس مومند

 

 

شمس مومند

 

مولانا فضل الرحمن کا شمار پاکستان کے زیرک اور مدبر سیاستدانوں میں ہوتا ہے اور جس طرح مفاد پرست تاجروں کے لئے مشہور ہے کہ بنیا کا بیٹا کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے بالکل اسی طرح مولانا نے بھی تمام عمر اپنے سیاسی مفادات کو دیکھ کر ہی پینترے بدلے ہیں۔احتیاط سے اپنے پتے کھیلے ہیں۔ کبھی احتجاج اور مزاحمت ، کبھی اقتدار اور کبھی کبھی تو وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کے ماہر ہیں۔ لیکن پشتو میں ایک محاورہ(متل) ہے (چی ہوخیارہ مرغئی دہ دواڑو خپو نہ گیریگی) یعنی چالاک پرندہ اکثر دونوں پروں سے پھنس جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ مولانا بھی اس وقت مشکل صورتحال سے دوچار ہے ۔ ان کا غیر لچکدار رویہ اور ایک نرم مزاج سیاستدان کی بجائے ایک مطلق العنان ڈکٹیٹر والے مزاج نے انہیں باقی سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی ناقابل قبول بنادیا ہے۔
عمران خان حکومت کے خلاف تحریک چلانے اور سب کو اکٹھا  کرنے میں مولانا کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں جس کے بدلے میں پی ڈی ایم حکومت میں انکی نہ صرف پانچوں انگلیاں گھی میں رہیں بلکہ سر بھی کڑاہی میں تھا۔ انھوں نے نہ صرف وفاق میں من پسند وزارتیں حاصل کرکے مفادات حاصل کیں بلکہ صوبے میں گورنر سمیت پوری نگران حکومت مولانا کی حکومت سمجھی جاتی تھی۔ اگر سچ پوچھئے تو مولانا اسی وقت غلطی کر بیٹھے تھے جس وقت انھوں نے نگران صوبائی حکومت کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ انھوں نے اپنے رشتہ داروں اور پارٹی کارکنوں کوتو نوازا مگر اس ایک سال کی حکمرانی نے ان سے پانچ سالہ اقتدار چھین لیا۔ اور عوام کی یہی ناراضگی دوسروں کا کام آسان کر گئی۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ بحیثیت صدر پی ڈی ایم مولانا کی من مانیاں اور مفادات کے حصول میں ان کا غیر لچکدار رویہ مقتدر قوتوں سمیت سیاسی رہنماوں کے لئے بھی مشکلات کا باعث بنا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات سے پہلے ایک مناسب موقع پر سب پہ بھاری شخصیت نے انکو سائیڈ لائن لگانے کا اشارہ دے دیا۔ اس پر جب بڑے میاں کی رائے معلوم کی گئی تو انھوں نے بھی خاموشی اختیار کرلی جس کو رضامندی سمجھا گیا۔ اور اسکے بعد باقی منصوبہ بندی مشکل نہ رہی۔ اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ حکمران اتحاد کے بڑوں کی رضا مندی اور گورنر سمیت نگران حکومت کیوجہ سے عوام کی ناراضگی نے کنگ میکرز کاکام آسان بنادیا۔ اور انہیں موقع ملا کہ وہ پی ٹی آئی کو واپس اپنے ابتدائی مرکزیعنی خیبرپختونخوا  تک محدود کرکے یہاں کا اقتدار ان کے حوالے کردے تاکہ ایک طرف مرکز، سندھ اور پنجاب میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو آگے لایا جا سکے اور دوسری طرف انتخابات کو شفاف ثابت کرنے اور پی ٹی آئی کو بھی حصہ بقدر جثہ دینے کا تاثر قائم کیا جاسکے۔ سب کچھ پلان کے مطابق پایہ تکمیل کو پہنچ چکا۔ اور انتخابات کے بعد اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت کے مصداق مولانا سانپ گذرنے کے بعد لکیر پیٹنے میں مصروف ہے۔ مگر ان کے لئے مشکل یہ ہے کہ وہ اس احتجاج اور مزاحمت میں بالکل تنہا رہ گئے ہیں۔ باقی تمام پارٹیاں مرکز یا کسی نہ کسی صوبے میں اقتدار کے سنگھا سن پر بیٹھی انکی تنہائی اور چڑ چڑے پن سے لطف اندوز ہورہی ہے۔ یہاں تک کہ پی ٹی آئی خود کو میدان میں احتجاج پر سمجھتی ہے مگر ان کا احتجاج صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والا ہے۔ یعنی صوبائی حکومت کا احتجاج صرف بڑھکیں مارنے تک محدود ہے اور گنڈاپور صاحب مولانا کے سابقہ کردار کی طرح کھلے عام وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں۔ دوسری بات یہ بھی کہ پی ٹی آئی گزشتہ دس سال سے سپانسرڈ، فارن فنڈنگ اور صوبے کے وسائل پر احتجاج کے عادی ہے۔ اب جبکہ عمران خان جیل میں ہے نہ کوئی توانا لیڈر شپ ہے نہ بے تحاشا وسائل اور سب سے اہم بات یہ کہ مولانا اور عمران خان نے دس سال ایک دوسرے کو چور ایجنٹ اور ملک دشمن کہہ کہہ کر اتنی نفرت پھیلائی ہے کہ اب اس کا مداوا ممکن ہی نہیں۔ اس لئے مولانا کی کشتی بیچ منجھدار میں پھنسی نظر آتی ہے۔ پارٹی کارکنوں کے علاوہ عام عوام بھی مولانا کی تحریک سے اسلئے لاتعلق نظر آتی ہے کہ وہ مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام سے تنگ آچکی ہے۔ اور وہ نئی حکومت کو ان مشکلات پر قابو پانے کا موقع دینا چاہتی ہے۔ اسلئے مولانا کو اپنے مفادات اور عناد کو پس پشت ڈالکر عوام اور حالات کے نبض پر ہاتھ رکھتے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اور انکی پارٹی بھی جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کی طرح صرف نام کی پارٹی رہ جائے۔

 

شمس مومند   گزشتہ ستائیس سال سے قبائلی امور اور خیبر پختونخوا کی دہشت گردی، ثقافت اور سیاست پر گہری نظر  رکھے ہوئے ہیں۔ تاریخ تحقیق اور شعر وادب میں چھ کتابوں کے مصنف ہیں۔ کئی ایک قومی اور بین الاقوامی صحافتی اداروں سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کا شمار خیبر پختونخوا کے ٹی وی اور ریڈیو کے مایہ ناز براڈ کاسٹرز میں ہوتا ہے

By pkadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *