سدھیر احمد آفریدی قبائلی امور و مسائل پر لکھنے والے معروف اور سینئر تجزیاتی کالم نگار اور صحافی ہیں جو گزشتہ 25 سالوں سے اپنے قلم کے ذریعے قبائلی عوام کے مسائل، انسانی اور بنیادی حقوق پر لکھ رہے ہیں۔

سدھیر احمد آفریدی

کہتے ہیں کہ مئی کا مہینہ پرندوں کابریڈنگ سیزن یعنی افزائش نسل کے لئے خاص ہوتا ہے بریڈنگ سیزن سے مراد وہ دورانیہ ہے جس میں پرندے پہلے گھونسلے بناتے ہیں مادہ اور نر پرندے ملکر اپنی افزائش نسل  کرتے ہیں اس دوران گھونسلے بناکر پھر انڈے دیتے ہیں اور ظاہر ہے ان انڈوں سے ان کی نئی نسل جنم لیتی ہے اور یہی ایک سائیکل تمام جانداروں میں چلتا رہتا ہے۔ پرندے اس دوران میٹنگ ب سردی ختم ہو جاتی ہے گرمی کا آغاز ہو جاتا ہے اور بارشیں خوب برسنا شروع کر دیتی ہیں تھوڑی بہت سرچ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ موسم گرما کے آغاز میں یعنی اپریل اور مئی کے مہینے میں جب بارشیں شروع ہو جاتی ہیں کیونکہ جب بارشیں زیادہ ہوجاتی ہیں تو پرندوں کو خوراک اور پانی باآسانی مل جاتے ہیں تو اس موسم یا دورانیے میں مادہ پرندے انڈے دیتے ہیں اور گھونسلوں کا خیال رکھتے ہیں نر پرندے تو مردوں کی طرح آزاد ہوتے ہیں جہاں ان کی مرضی چلے جاتے ہیں لیکن مصیبت میں تو مادہ پرندے پڑ جاتے ہیں کیونکہ وہ گھونسلوں کو برقرار اور موثر رکھتی ہیں جہاں وہ دو ماہ تک انڈے دینے کے عمل تک صرف خوراک کے لئے اڑتے ہیں بریڈنگ سیزن مئی سے لیکر ستمبر تک جاری رہتی ہے بریڈنگ ایک پورا عمل ہے جس میں مادہ اور نر پرندوں کی میٹنگ سے لیکر گھونسلہ بنانے تک اور پھر بچے پیدا کرنے کا پورا وقت اس میں شامل ہوتا ہے یہ مادہ پرندہ جب انڈے دیتا ہے تو وہ ری پروڈکشن کی خاطر اپنے انڈوں کی حفاظت پر مومور ہوتا ہے انڈوں کو گرم رکھنا اور کبھی انڈوں کا ایک رخ گھمانا اور کبھی دوسرا رخ گھمانا اس کی تربیت میں شامل ہوتا ہے تاکہ انڈے گرم بھی رہے اور آپس میں چپک نہ جائیں اور ٹوٹنے سے بچ جائیں تاکہ آف سپرنگ یعنی ان کے نوزائیدہ بچے معذور پیدا نہ ہو اور ہر حوالے سے مکمل اور صحت مند ہو پرندے اپنے گھونسلے جھاڑیوں اور درختوں میں بڑی تگ و دو سے گزر کر بناتے ہیں جو کہ کوئی آسان کام نہیں اس لئے شکاری حضرات اور عام لوگوں کے سامنے کچھ گزارشات پیش کرنے کی طرف بڑھتا ہوں تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ پرندے بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کی نسلوں کو بچانا اور پرورش کرنا ہماری ذمہ داری ہے پرندے اور درخت ہمارے ماحول کی خوبصورتی ہیں لہذا پرندوں اور درختوں کو ختم کرنے سے گریز کرنا چاہئے اگر ہم درختوں اور گھاس کو آگ لگاتے ہیں یا کاٹ دیتے ہیں تو ایک طرف قدرتی ماحول پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور دوسری طرف ایسا کرنے سے پرندوں کے گھر اور گھونسلے وجاڑ کرکے رکھ دئے جاتے ہیں لہذا درختوں کو بھی اس صورت میں کاٹنا چاہئے جب وہ خشک ہوچکے ہوتے ہیں اور مزید پھل یا سایہ دینے کے قابل نہ ہو لیکن کسی سرسبز و شاداب اور گنے تناور درخت کو بلاضرورت کاٹنا بھی ظلم ہے اگر ضرورت کے لئے درخت کاٹنا ضروری ہو تو پھر یہ ذمہ داری بھی پوری کریں کہ دس متبادل پودے اور چھوٹے درخت کاشت کریں تاکہ پرندوں کی طرح پودوں اور درختوں کی نسل بھی آب و تاب کیساتھ برقرار رہے اور بڑھتی رہے جس سے ہمارا ماحول تر و تازہ اور خوشگوار رہتا ہے یہی درخت ماحول کو آلودگی سے پاک رکھتے ہیں ہمیں سایہ اور پھل دیتے ہیں آکسیجن کی فراہمی میں اضافہ کرتے ہیں اور یہی درخت ہم اپنی ضروریات کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں لیکن ایسا کرنا ہر گز مناسب نہیں کہ کوئی کلہاڑی اور آری لیکر محض چائے پکانے کے لئے بھی تناور سبز درخت کو کاٹ کر رکھ دیں یہ پھر ظلم اور پورے سماج اور ماحول کیساتھ زیادتی ہے درخت کاٹتے وقت یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ کہیں کسی درخت میں تو کسی پرندے کا گھونسلہ نہیں بنا ہوا ہے جہاں پرندوں کے انڈے یا پھر نوزائیدہ بچے بھی ہو سکتے ہیں بعض اوقات معمولی پھل کے حصول کے لئے نوجوان پھل دار درختوں پر پتھر برسا کر ان میں قائم گھونسلے اور انڈے بھی برباد کرتے ہیں اس طرح وہ پرندوں کی نئی نسل کی آفزائش کا فطری عمل برباد کرکے رکھ دیتے ہیں ایل طرف سماج میں موجود باشعور اور سمجھدار لوگ اور دوسری طرف محکمہ جنگلات کے آلہ کاروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جنگلی حیات، خصوصاً پرندوں اور جنگلات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں بلکہ یہ شعور اجاگر کرنے میں کردار ادا کریں کہ مقامی لوگ اپنے پہاڑوں میں جہاں اور جتنا ممکن ہو خوراک پہنچائیں تاکہ پرندے اور دیگر جانور کھا سکے اور جو لوگ سیر سپاٹوں کے لئے پہاڑوں کی طرف جاتے ہیں وہ جہاں بھی پانی کا چشمہ یا معمولی پانی دیکھیں اس کو کم از کم محفوظ بنائیں تاکہ ضائع نہ ہو سکے کیونکہ اسی پانی کی بدولت پرندوں اور جانوروں کی زندگی قائم و دائم رہتی ہے محکمہ پولیس اگر پہاڑوں کو جانے والے راستوں میں پہرا دیں اور شکاریوں کو روکیں اور دیگر جانے والے نوجوانوں کو سختی سے سمجھائیں کہ وہ پرندوں کا شکار اور درختوں کو کاٹنے سے گریز کرینگے تو بڑی حد تک ہم درختوں اور پرند و چرند کی زندگیاں بچا سکتے ہیں اور اگر کوئی پرندوں کو مارنے اور درختوں کو کاٹنے سے باز نہ آئیں تو ایسے عناصر کے خلاف سرکاری اور قومی سطح پر ایکشن لینا چاہئے یہ کوئی شوق نہیں کہ پرندوں کو مار دیا جائے یا کسی جانور کو گولی مار کر قتل کیا جائے جب ہمارا ماحول اور پہاڑ درختوں اور پرندوں سے خالی ہونگے تو یہ بھی کوئی ماحول ہوگا پرندوں کی چہچہاہٹ اور سریلی آوازیں اور درختوں کے جھنڈ،پھل اور سائے ہی ہمارے ماحول اور زندگی کی خوبصورتی ہیں جنہیں کوشش کرکے بچانا چاہئے آخری گزارش نوجوانوں سے یہ بھی کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ جہاں بھی پکنک منانے یا سیر سپاٹے کی غرض سے جاتے ہیں وہاں ضرور کوئی پودا لگائیں اور پرندوں کے لئے خوراک لیکر جائیں اس سے ثواب دارین حاصل ہوگا اور ماحول کی خوبصورتی میں مفید ثابت ہوگا۔

By pkadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *