عمران ٹکر خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کے ایک اہم رکن کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں 8 چائلڈ کورٹس کے قیام میں اہم کردار ادا کیا،

تحریر: عمران ٹکر

صوبائ حکومت کی ترجیحات کا اندازہ اس سے لگایا جائے کہ سرکاری سکولوں میں جہاں 100 فیصد غریب بچے سبق پڑھتے ہیں میں  حکومت کی جانب سے نئی  کتابوں کی فراہمی کے بغیرنئے  تعلیمی سال کا آغاز کردیاگیا  ہے۔

یہ شاید پہلی بار ہوگا کہ  اس سال پرانی کتابیں اکٹھی کرکے سکولوں کو فراہم کی جائیں گی یعنی اس سال خیبر پختونخوا کے غریب بچوں کو تعلیم کے حصول کے لئے نئی کتابیں نہیں ملیں گی۔
دوسری طرف صوبائی حکومت نے تمام اضلاع میں غریبوں کو مفت خوراک کے لئے لنگر خانے کھول دیئے ہیں جن کے لئے فنڈذ تو موجود ہیں لیکن ان غریب عوام کے بچوں کے حصول تعلیم کے لئے نئی کتابوں کے لئے فنڈز نہیں ہیں۔ ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ  فنڈذ کی عدم دستیابی کی بدولت صوبائ یحکومت نئی کتابوں کی چھپائ اور ترسیل سے قاصر ہے۔
 خیبرپختونخوا  میں پہلے ہی سے تعلیم کا یہ حال ہے کہ 47 لاکھ کے قریب سکول جانے کے عمر کے بچے سکول نہیں جا رہے ہیں جن میں سے 7 لاکھ سے زیادہ چائلڈ لیبر کررہے ہیں اور اس  کی سب سے بڑی  وجہ غربت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ ماہرین اور تجزیہ نگاروں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ  اگر تعلیم موجودہ صوبائی حکومت کی ترجیح نہیں رہی تو سکول نہ جانے والے طلباء اور طالبات میں مزید اضافہ ھونے کا خطرہ موجودہے۔ اس کے علاوہ جو بچے کتابیں لئے بغیر اگر سکول جا بھی رہے ہیں تو بھی یہ امکان موجود ہے کہ وہ بھی جلد ہی سکول جانا اور تعلیم حاصل کرنا چھوڑ دینگے اور اس عمل کی بدولت مزید بچوں کے سکولوں میں داخلوں کا عمل بھی متاثر ہوگا۔ پانچ  سال سے لیکر 16 سال تک تعلیم کا حصول ھر بچے کا بنیادی آئینی حق ہے اور صوبائی حکومتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس عمرکے  تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کا حصول ممکن بنائے۔ چونکہ ترجیحات اور سیاسی عزم تعلیم کے حصول میں ہمیشہ صوبائی حکومتوں کا فقدان رہا ہے اس لئے لاکھوں بچے اس جدید دور میں بھی سکول نہیں جارہے جن میں بیشتر چائلڈ لیبر کی طرف جا رہے ہیں۔

By pkadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *