علی نواز گیلانی

سیّد علی نواز گیلانی

پہلا نکتہ: چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون میں بلاشبہ اضافہ ہو رہا ہے جسے محفوظ اُور جاری رکھنے کے لئے چوکس رہنا ضروری ہے کیونکہ ’سیکیورٹی چیلنجز‘ بدستور موجود ہیں‘ جو پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری اور اِس کے اہلکاروں کے لئے خطرات‘ خدشات و تحفظات کا باعث ہیں۔

دوسرا نکتہ: وزیراعظم شہباز شریف کے آئندہ متوقع دورہ بیجنگ میں چین پاکستان اقتصادی راہداری پر مشاورت کے علاوہ دوطرفہ مفادات کے تحفظ پر بھی بات چیت ہوگی۔ ظاہر ہے کہ اس بات چیت میں پاکستان میں چین کے اہلکاروں کے لئے سیکورٹی اقدامات بڑھانا بھی ایجنڈے میں شامل ہوگا۔

تیسرا نکتہ: چین پاکستان کے ساتھ اقتصادی راہداری اُور دیگر منصوبوں کو جاری رکھنا چاہتا ہے لیکن اُسے اپنے شہریوں کا تحفظ بھی مقدم ہے۔ اِس سلسلے میں چین کی جانب سے پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کرنے اُور جاری سرمایہ کاری کے تحفظ کے عزم کا اظہار دونوں ممالک کے درمیان پائیدار شراکت داری کا منہ بولتا ثبوت ہے چونکہ ’سی پیک‘ دو طرفہ تعاون کی بنیاد کے طور پر کام کر رہی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ پاکستانی علاقے میں چین کے مفادات کے تحفظ کو ترجیح دی جائے۔

حالیہ چند دنوں میں پیش آئے واقعات نے پاکستان میں چین کے شہریوں اور منصوبوں کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کو اجاگر کیا ہے۔ اس کے جواب میں‘ پاکستانی حکام نے خطرات کم کرنے اور چین کے ساتھ ترقیاتی شراکت داری کے لئے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے فعال اقدامات کی فوری ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔ اس میں باہمی تعاون کو برقرار رکھنے اور باہمی خوشحالی و استحکام کو فروغ دینے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کا فروغ بھی شامل ہے۔ چین سرمایہ کاری کے تحفظ کو برقرار رکھنے کے لئے پاکستانی حکام کا عزم کسی بھی صورت کم نہیں لیکن ظاہر ہے کہ اِس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے تاکہ شراکت داری سے باہمی خوشحالی اور استحکام جیسے اہداف حاصل کئے جاسکیں۔ چین اپنے ہم منصبوں کے ساتھ قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیتا ہے اُور پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر چین کے شہریوں اور منصوبوں کی حفاظت کو یقینی

بنانے کے لئے اپنے موقف پر سختی سے کاربند ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان کلیدی اتحاد پہلے سے زیادہ مضبوط دکھائی دے رہا ہے اور دونوں ممالک ایک محفوظ ماھول پیدا کرنے کے لئے بھی پرعزم ہیں۔ جوں جوں اِس شراکت داری میں اضافہ ہو رہا ہے‘ دونوں ممالک کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے اور باہمی خوشحالی و استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے مل جل کر کام کریں۔ پاکستان کے لئے تن تنہا سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا اُور جب تک پاکستان اور چین کے درمیان پائیدار شراکت داری مزید مضبوط نہیں کی جاتی اُس وقت تک خطے میں مسلسل تعاون اور پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد بھی نہیں رکھی جائے گی۔

پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں جن میں تجارت‘ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور اسٹریٹجک اتحاد سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے تاہم حالیہ پیش رفت نے اس دوطرفہ شراکت داری کے مواقعوں اور چیلنجز کو اُجاگر کیا ہے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات کو تشکیل دینے والی تین اہم پیش رفتوں کا احاطہ ضروری ہے جن میں خنجراب سرحد کو دوبارہ کھولنے سے لے کر پاکستان میں چینی شہریوں اور منصوبوں کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز شامل ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ خنجراب سرحد سطح سمندر سے تقریبا پندرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے جو پاکستان کو چین سے ملانے والی واحد زمینی گزرگاہ ہے۔ برفباری کی وجہ سے یہ گزرگاہ چار ماہ کی بندش کے بعد آمدورفت کے لئے کھول دی گئی ہے جس سے دوطرفہ تجارت اور سیاحت کو فروغ مل رہا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف معاشی سرگرمیوں کی بحالی کی علامت ہے بلکہ موسمی چیلنجز کے باوجود پاک چین تعلقات کی کامیابی کو مزید بلندیوں پر دیکھنے کی کوششوں کو بھی اجاگر کر رہی ہے۔ 1985ءکے پروٹوکول معاہدے کے مطابق‘ پاک چین خنجراب سرحد ہر سال یکم دسمبر سے اکتیس مارچ تک بند رہتی ہے تاہم حالیہ دنوں میں اِس کا دوبارہ کھلنا‘ دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور بالخصوص اقتصادی تبادلوں کے فروغ اُور عزم کی نشاندہی ہے۔

پاکستان اور چین ’سی پیک‘ کو ایک نئی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں اُور اِس کے لئے وہ تیسرے فریق کی شرکت کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ’سی پیک‘ کا بنیادی تصور اُور مقصد بھی یہی تھا کہ اِس سے علاقائی تعاون کو وسیع کیا جائے۔ علاقائی تعاون کے دائرہ کار کو بڑھایا جائے اور علاقائی تعاون کے ذریعے اضافی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے چین کے وفد کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران پیش کئے گئے مسودے میں تیسرے فریق کی شمولیت کے عمومی اصولوں اور مقاصد کا خاکہ پیش کیا گیا‘ جس میں شمولیت‘ باہمی فائدے اور سی پیک سے متعلق حکومتی حکمت عملی پر زور دیا گیا ہے۔ یہ اقدام وسیع تر علاقائی رابطوں اور اقتصادی انضمام کی جانب اسٹریٹجک تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے‘ جس میں ’سی پیک‘ امکانات کا ایک وسیع اُور نہ ختم ہونے والا جہان ہے۔ بین الاقوامی تعاون اور رابطہ کاری سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کا قیام تیسرے فریق کی شرکت کو آسان بنا رہا ہے اُور اِس سے پائیدار ترقی یقینی بنانے کے لئے مشترکہ کوششوں کی نشاندہی بھی ہو رہی ہے۔

چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون نے گزشتہ چند برس کے دوران غیرمعمولی پیش رفت کی ہے لیکن پاکستان میں چین کے سرمایہ کاری اُور اِس کے تجربہ کار اہلکاروں کی حفاظت ایک ایسا مسئلہ ہے جو کثیرالجہتی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں چینی انجینئرز کو نشانہ بنانے والا حالیہ خودکش حملہ غیر ملکی شہریوں کو درپیش خطرات کی یاد دلاتا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے اِس حملہ کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ یہ تنظیم پاکستان میں شورش اور عسکری سرگرمیوں کے لئے ذمہ دار ہے۔ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے والے غیرملکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے علاوہ گوادر پورٹ اتھارٹی کمپاونڈ پر حملہ اور چینی مفادات کو درپیش متنوع خطرات کو بیان کرنے کے لئے کافی ہیں۔ چین کے نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان میں اس کی سرمایہ کاری اور اس کے شہریوں کی حفاظت بنانا اولین ترجیح ہونی چاہیئے جس کے لئے حفاظتی اقدامات اور صرف پاکستان کے اندر ہی نہیں بلکہ خطے میں کئے جانے والے سیکورٹی آپریشنز کا ازسر نو جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

پاکستان میں چین کے شہریوں اور منصوبوں کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملے کے اثرات وزیر اعظم شہباز شریف کے آئندہ دورہ بیجنگ پر بھی یقینا مرتب ہوں گے۔ اس بات کا امکان ہے کہ وزیراعظم پاکستان کا آئندہ دورہ چین کے دوران دیگر امور کے علاوہ چینی باشندوں اور منصوبوں کے لئے موجودہ حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوگی۔  اِس حوالے سے ایک دستاویز (سمری) میں ’سی پیک‘ جیسے منصوبوں میں چین کی شمولیت کے حوالے سے بلوچ علیحدگی پسندوں کے تحفظات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ تحفظات بلوچستان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں (حق تلفی) ہے جس میں وسائل سے مالا مال صوبہ ہونے کے باوجود‘ بلوچستان پسماندگی‘ معاشی محرومی اور ناکافی ترقی کا شکار ہے۔

بلوچستان کے قوم پرست اپنے صوبے کے لئے ’سی پیک‘ سے ٹھوس فوائد (ثمرات) حاصل کرنا چاہتے ہیں اُور یہی بات اُن کی ناراضگی کا باعث بنی ہوئی ہے کہ قومی ترقی میں اُن کی حصہ داری کم ہے اُور اِس جواز کو بنیاد بنا کر وہ علیحدگی پسندی کو بھی ہوا دے رہے ہیں۔ چین کی جانب سے اِن اُور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تجویز دی گئی ہے کہ بلوچوں کی شکایات کا ازالہ کیا جائے اُور سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ تعاون کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔

پاک چین تعلقات میں حالیہ پیش رفت اِس اسٹریٹجک شراکت داری میں موجود مواقعوں اور چیلنجز کی نشاندہی پر مبنی ہے۔ خنجراب سرحد کا طویل عرصے تک کھلا رکھنا درحقیقت چین کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعاون کے فروغ کی علامت ہے لیکن سیکیورٹی خدشات، معاشی ترقی اور علاقائی رابطوں میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں‘ خاص طور پر جب ہم ’سی پیک‘ کے تحت ترقیاتی منصوبوں اُور اُن کی کامیابیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں پاکستان کی جانب سے یہ عزم دیکھنے کو ملتا ہے کہ یہ سلامتی کی ضروریات پوری کرے گا۔ جامع ترقی کے فروغ کے لئے چین کی جانب سے تجاویز پر اُن کی روح کے مطابق عمل درآمد کرے گا اور دوطرفہ تعاون کی رفتار کو برقرار رکھنے اور خطے میں خوشحالی اور استحکام کے مشترکہ ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوششیں جاری رکھے گا۔

 

مضمون نگار پاکستان چین فرینڈشپ ایسوسی ایشن (خیبرپختونخوا شاخ) کے سیکرٹری جنرل اُور پشاور میں مقیم خارجہ امور کے تجزیہ کار اور میڈیا ایڈوائزر ہیں۔ اُن سے رابطہ بذریعہ اِی میل syeed.gilani@gmail.com کیا جاسکتا ہے۔)

…………

By pkadmin

2 thoughts on “پاک چین تعلقات اُور مفادات کا تحفظ”
  1. یہ ایک معلوماتی مضمون ہے۔ میں مصنف کو ایسے وقت میں تازہ ترین معلومات فراہم کرنے کی تعریف کرتا ہوں جب اس موضوع پر بہت زیادہ الجھن ہے۔ مضمون میں پاکستان اور چین کے تعلقات کا ایک جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون، پاکستان میں چین کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور دوطرفہ تعلقات کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ مضمون کا اختتام پاکستان اور چین سے تجارت، سرمایہ کاری اور سلامتی سمیت متعدد مسائل پر قریبی تعاون جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ میں
    کی کامیابی کی امید کرتا ہوں اور میں اس کے لیے دل سے دعا گو ہوں۔ CPEC
    ڈاکٹر محمد الیاس انصاری
    لاہور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *