غزہ جو تین مہینوں سے نہ صرف خبروں کی زد میں ہے بلکہ اس کے حالات دنیا پر بھی بہت بری طرح اثرانداز ہورہے ہیں اسی غزہ سے ایسی ایسی کہانیاں بھی نکل کر باہر آرہی ہیں جو عقل انسانی کو حیران کردیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی دانیا اور ریوٹ کی بھی ہے جو اسرائیلی فوجیوں کے مظالم کا نشانہ بنے اور دونوں اس دنیا سے رخصت ہوئے جن کی شادی ایک دوسرے کے ساتھ بعد از مرگ انجام پائی۔

ریواولز نامی نیٹ ورک پر نمودار ہونے والے ایک فلسطینی بزرگ شہری کا کہنا تھا کہ غزہ اور باقی دنیا کی کہانیاں ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں وہ کہتے ہیں کہ باقی دنیا میں مرنے والوں کو رویا جاتا ہے لیکن غزہ میں لوگ ایسا نہیں کرتے وہ ہر مرنے والے کو اپنا ایک شہید تصور کرتے ہیں اور جب کوئی اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں مرتا ہے تو غزہ کے رہنے والے اسے ایک اور شہید کہہ کر اس پر فخر کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے شروع میں سترہ سالہ دانیا نامی لڑکی حجاب پہنے ہوئے سکول سے گھر جارہی تھی کہ راستے میں اسرائیلی فوجیوں کو اس کے حجاب سے خوف محسوس ہوا جنہوں نے اسے حجاب اتارنے کا حکم دیا تاہم وہ نہیں مانی اور اسرائیلی فوجیوں نے فائرنگ کرکے اسے شہید کردیا اس کے بہتے خون سے غزہ کی سرزمین سرخ ہوئی جہاں پر موجود ایک بیس سالہ نوجوان ریوٹ نے اس کی تصویر اٹھا کر سوشل میڈیا پر ڈالی اورسوال کیا کہ “کیا اگر یہ لڑکی آپ کے گھر کی ہوتی آپ کی بیٹی یا بہن ہوتی تو کیا آپ پھر بھی خاموش رہتے”۔

ریوٹ نے نہ صرف یہ تصویر سوشل میڈیا پر ڈالی بلکہ دانیا کا بدلہ لینے کے لئے انہی اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کردیا اس نے چاقو کے وار کرکے ایک اسرائیلی فوجی کو زخمی کردیا تو اسی دوران دوسرے نے فائرنگ کرکے اسے موت کی نیند سلادیا۔

اس دوران سوشل میڈیا پر ریوٹ کے اٹھائے ہوئے سوال نے ہر پڑھنے اور دیکھنے والے کو بے چین کردیا اور لوگ احتجاج کرنے نکل آئے ریواولز پر کہانی سنانے والے فلسطینی بزرگ کہتے ہیں کہ لوگ ریوٹ کے باپ کے پاس تعزیت کے لئے آرہے تھے کہ اچانک اس کے باپ کو احساس ہوا کہ دانیا کا باپ کس حال میں ہوگا وہ تعزیت کے لئے آنے والوں کی جگہ چھوڑ کر دانیا کے گھر کی طرف لپکا اور وہاں پر اس کے باپ سے ایک عجیب فرمائش کردی اس نے دانیا کے باپ سے اس کا ہاتھ اپنے شہید ہونے والے بیٹے ریوٹ کے لئے مانگ لیا اور یوں دونوں کی بعد از مرگ شادی ہوگئی۔

کہانی سنانے والے بزرگ کہتے ہیں کہ غزہ میں لوگ شہید ہونے والوں کا سوگ نہیں کرتے بلکہ ایک وہ اس پر فخر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں خود شہیدوں کی اس شادی میں شریک ہوا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ میں نے زندگی میں ہزاروں شادیاں اٹیند کی ہونگیں لیکن ایسی شادی نہیں دیکھی۔

وہ کہتے ہیں کہ فلسطینی بچے بھی بڑے سمجھدار ہوگئے ہیں وہ گھر سے نکلنے سے پہلے اپنے وجود کے مختلف حصوں پر اپنا اور اپنے باپ کا نام لکھتے ہیں تاکہ اگر وہ کہیں شہید ہوجائیں تو انہیں آسانی سے پہچانا جاسکے۔

یہ اور ایسی بہت سی کہانیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ غزہ کے لوگ باقی دنیا سے مختلف ہیں وہ نہ موت سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی موت کو زندگی کا اختتام سمجھتے ہیں بلکہ وہ اسے ایک نئی زندگی کی شروعات کہتے ہیں۔

By pkadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *