ہیلتھ ڈیسک، کراس روڈز ٹوئنٹی فور ڈاٹ کام

 

کسے معلوم تھا کہ ہمارے ہاں جہاں گرمی کے دنوں میں لوگ اپنے جسم سے پیدا ہونے والی بدبو کے لئے سینکڑوں ہزاروں روپے کے پرفیوم اور دیگر چیزیں استعمال کرتے ہیں وہاں پر ایک ایسی چیز بھی دستیاب ہے جو صرف پچاس روپے میں اتنی ملتی ہے کہ ایک سال کے لئے کافی ہوتی ہے جی ہاں ایسی اشیا ہمارے ہاں بہت آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں اور ان کے استعمال سے ہمارے ارد گرد سینکڑوں لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہوا ہے۔

 

آپ سوچتے ہونگے ایسی کیا چیز ہے جو گرمی کے اس شدید موسم میں اتنی بڑی “خدمت” کرسکتی ہے تو وہ چیز ہے پٹھکڑی (انگریزی میں اسے alum) کہتے ہیں ہماری لوکل زبانوں میں اس کے اپنے اپنے نام بھی ہوسکتے ہیں۔ 

 

جسم کی بدبو کا علاج:

ایک ڈاکٹر دوست نے ہمارے ایک مشترکہ دوست کو مشکل میں دیکھ کر اسے مشورہ دیا کہ نہانے کے بعد باقی بدن کو تولیے سے سکھالینا اور جہاں خصوصا بغلوں میں سے پسینے کی بدبو آتی ہو تو وہاں پر پٹھکڑی کو لگا لیں یعنی جو ٹکڑا آپ کے ہاتھ میں ہے اسے بغل میں کچھ وقت کے لئے پھیرتے رہیں۔ ہمارے اس دوست کو سردی میں بھی یہ تکلیف ہوتی تھی کہ ان کے بغل میں پسینہ آتا تھا اور ان کے کہنے کے مطابق یہاں پر ان کی جلد قدرے کالی بھی ہوگئی تھی چند دن بعد پھر اسی دوست سے ملاقات ہوئی تو بہت ہشاش بشاش اور خوش تھے اس سے پہلے وہ گرمیوں میں لوگوں سے ملنے سے کتراتے تھے کہ ایک تو ہمیشہ ان کے کپڑے اس مقام پر پسینے سے تر رہتے تھے اور دوسری ان کے پاس سے بدبو بھی آتی تھی۔ حال احوال کے بعد خود کہنے لگے کہ اس ڈاکٹر دوست کے مشورے نے کام دکھادیا تھا صرف تین چار دن کے پٹھکڑی کے استعمال سے ہی ان کو کافی افاقہ ہوا تھا بدبو تو بالکل ہی ختم ہوگئی تھی پسینہ بھی کافی حد تک قابو ہوچکا تھا خود ہی کہنے لگے کہ اب بغل میں جلد بھی واپس باقی جسم جیسی ہوگئی ہے۔

اس کے بعد کچھ عرصے تک جو بھی ایسا ملا اس کو یہی مشورہ دیا کہ وہ پٹھکڑی کا استعمال کرے اور بہت سے لوگوں کو اس سے افاقہ ہوا۔ خود کئی ڈاکٹروں کو دیکھا جو لوگوں کو اس طریقہ علاج پر آمادہ کرتے تھے اور لوگوں کو اس کا فائدہ بھی ہوتا تھا یہاں تک کہ بہت سارے لوگ اس سے ٹھیک ہوئے۔ 

 

دانتوں کی حساسیت میں استعمال:

 

ایک دن ایک ڈاکٹر دوست کے ساتھ ان کی کلینک پر معائنہ ہونے کے بعد بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص دانت پر ہاتھ رکھے کلینک میں داخل ہوا اور ٹھنڈا گرم لگنے کی شدید حساسیت کی شکایت کی میں سمجھا ڈاکٹر صاحب اسے کوئی ایلوپیتھک دوائی لکھ کر دیں گے تاہم انہوں نے اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے کہا کہ بازار سے پچاس روپے کی پٹھکڑی لو اس کے ایک ٹکڑے کو روٹی پکانے والے خشک توے پر رکھو اور اس کے نیچے آگ جلا لو کچھ ہی دیر میں اس پٹھکڑی کے اندر موجود پانی ابل کر سوکھ جائے گا پٹھکڑی کا بقایا حصہ کسی چیز کے ساتھ کوٹ کر اس کا پاوڈر بنالیں اور انگلی کے ساتھ اسے اس دانت پر لگائیں جس پر گرم ٹھنڈا لگتا ہو۔ 

مجھے خود بڑا عجیب لگا کہ یہ مسئلہ تو بہت سی مہنگی دوائیوں سے بھی ٹھیک نہیں ہوتا میرے بھی ایک دانت میں یہی شکایت تھی یہی طریقہ آزمایا اور پھر تو جیسے جادو ہوگیا۔ اب کافی عرصے سے وہ شکایت ختم ہے البتہ ہم خود بھی پندرہ دن میں ایک بار دانتوں پر اس سفوف کو انگلی سے لگا کر تھوڑی دیر بعد دھوتے ہیں۔ یقین کریں جادوئی اثر ہے۔

 

انفیکشن کے لئے بہترین علاج:

 

بچپن سے دیکھتے آئے ہیں کہ ہئیر ڈریسر کسی کا شیو کرنے کے بعد اپنے پاس موجود پٹھکڑی کا ٹکڑا اس کے چہرے پر مَلتے تھے کوئی پوچھتا تو وہ بتاتا تھا کہ اس سے شیو کے دوران لگا ہوا کٹ بھی ٹھیک ہوتا ہے اور استرے یا بلیڈ کے جراثیم بھی ختم ہوتے ہیں۔ اس وقت سے ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو جسم پر کسی بھی جگہ انفیکشن کے لئے اس جادوئی پتھر کا استعمال کرتے ہیں اور ٹھیک بھی ہوتے ہیں۔ 

ہمارے ہاں جہاں پر علاج کے دوران ڈاکٹر کی ہر چند ماہ بعد بڑھتی فیس اور مہنگی ہوتی ادویات سے لوگ انتہائی تنگ ہیں ایسے میں ان کی دوائی لینے کی استطاعت ہی ختم ہوگئی ہے اگر اتنے بڑے مسئلے اس چھوٹی سی چیز سے حل ہوسکتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے؟

 

By pkadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *