سوره کہف” کی انیسویں آیت کا ایک لفظ ہے
“والیتلطف “
یہ تھوڑا بڑا کر کے لکھا ہوتا ہے ،
“کیونکہ یہاں قرآن پاک کا درمیان آ جاتا ہے، کہتے ہیں یہ لفظ پورے قرآن کا خلاصہ ہے، اور اس کا ترجمہ ہے “نرمی سے بات کرنا”
جب الله نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجا ، تو بھی یہی کہا کہ تم اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ مان جاۓ .
کون مان جاۓ ؟؟ وہ انسان جس سے زیادہ متکبر اور گھمنڈ والا شخص دنیا میں اور کوئی نہیں آیا۔ زندگی کتنی بدل جاۓ اگر ہم اس بات کو مان جائیں کہ نرمی سے بات کرنے کا مطلب بے وقوفی، کمزوری یا بزدلی نہیں بلکہ عاجزی اور اعلی ظرفی ہے “۔

اس لفظ کے معنی نرمی کے ہیں اس حرف پر قرآن پاک کے درمیان میں اعلی اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دل کو زمین سے تشبیہہ دی ہے دل زمین کی طرح نرم ہوگا تو اس میں فصل اچھی اُگے گی اور اگر دل اخلاق کی سڑک یعنی زمین پر نہیں رہے گا تو انسان گمراہ ہوجائے گاجب دل نرم ہوگا تو ہم حقوق اللہ  اورحقوق العباد اچھے طریقے سے ادا کرسکیں گے۔ زمین جیسے عاجزی سے ہمیشہ خاموش رہتی ہے چاہے ہم اس پر زور ڈالیں اسے کُدالوں سے کھودیں اس پر بوجھ ڈالیں یہ عاجزی سے خاموش رہتی ہے مومن کو بھی اسی طرح عاجزی کی تعلیم دی گئی ہے۔

By pkadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *